VicksWeb upgrade Location upload ads trending
VicksWeb بھارت

کرنے پر خیرمقدم VicksWeb

Flag Counter
مودی کے دو سالہ دور اقتدار میں عام لوگ انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار رہے ، کانگریس رہنما کی پریس کانفرنس
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:19

سرینگر کے این این کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے نریندرا مودی کے دو سالہ دور اقتدار کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک موجودہ این ڈی اے کی سربراہی والی سرکار نے عوام کے ساتھ جو بھی وعدے کئے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ این ڈی اے حکومت کی کارکردگی پر 59صفحات پر مشتمل متوازی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اچھے دن تو نہیں دیکھیں لیکن وہ برے دور سے ضرور گزر ہے ہیں۔ ملکی سطح پر کانگریس کی جانب سے این ڈی اے کے خلاف جاری مہم کے تحت کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے این ڈی اے حکومت کی کارکردگی پر 59 صفحات پر مشتمل متوازی رپورٹ جاری کی۔انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بھاجپا نے عوام کے ساتھ جو بھی وعدے
 کئے ان میں سے ابھی تک ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ این ڈی اے کی سربراہی والی سرکار کے دو سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک لوگوں نے اچھے دن نہیں دیکھے ۔پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ 30سال کی تاریخ کے بعد ملک میں کسی ایک پارٹی کو عوام نے اکثریت کے ساتھ مینڈیٹ دیا کیونکہ عوام کی کافی امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے انتخابی مہم کے دوران عوام میں کافی امیدیں پیداکی لیکن جب بھاجپا کے 2سالہ دور اقتدار کا جائیزہ لیا جاتا ہے کہ ناکامی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ کانگریس کو اتحادی پارٹیوں کے ساتھ حکومت کرنے میں مشکلات ضرور پیدا ہوئیں لیکن یہ سمجھ سے باہر ہے کہ این ڈی اے جسے واضح اکثریت ملی تھی کیونکر عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ملک کا ہر ایک طبقہ خواہ وہ مزدور ہو یا کسان اس وقت شدید ترین مشکلات سے دو چار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں غذائی اجناس کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں 2013-14میں ملک میں غذائی اجناس کی پیداوار265.00میٹرک ٹن تھی کو گر کر 2015-16میں 253.20میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے اور یہ مودی حکومت کی کامیابی کا صلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندرا مودی کی سربراہی والی سرکار نے بقو انکے ملک بھر میں کسان مخالف پالیسی اپنائی ہے جس کے نتیجے میں کسان سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرایندرا مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بے روز گاروں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا اور سال میں ملک بھر میں 2کروڑ بے روزگاروں کو روزگار دینے کا اعلان کیا لیکن ملک بھر میں چند لاکھ اسامیاں ہی پُر کی گئیں۔پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ 2013-14 میں ملک بھر میں زرعی پیداوار 4.2فیصد تھی جو 2015-16میں گرکر 1فیصد آگئی ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے مجودہ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ملکی عوام کو آگاہ کرنے کیلئے ایک مہم شروع کررکھی ہے جس کے تحت ملک کی ہر ایک ریاست میں کانگریس کی جانب سے عوام کو بیدار کرنے کیلئے پریس کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا اور کشمیر میں بھی اسی مہم کے تحت پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

حزب کمانڈر برہان وانی کے دست راست طارق پنڈت کی گرفتاری کا دعویٰ پلوامہ میں صرف بارہ لڑکوں کو کونسلنگ کیلئے تھانے پر طلب کیاگیا :ایس ایس پی
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:19

پلوامہ نیازحسین جے کے این ایس فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ نیوا پلوامہ میں فوج کی خصوصی پارٹی نے حزب کمانڈر برہان وانی کے دست راست کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا ۔ دفاعی ترجمان نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ طاریق پنڈت کی گرفتاری کے بعد حزب المجاہدین کو پلوامہ میں بہت بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ دفاعی ترجمان کرنل این این جوشی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج نے حزب المجاہدین کے سینئر کمانڈر طاریق احمد پنڈت کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا ۔ کرنل این این جوشی کے مطابق طاریق احمد پنڈت کے قبضے سے پسٹل ، دوچینی گرنیڈکے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ دفاعی ترجمان نے مزید بتایا کہ طاریق احمد پنڈت پلوامہ میں پچھلے کئی سالوں سے سرگرم تھا اور اس دوران پولیس وفورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیوںمیں بھی پیش پیش تھا ۔ انہوںنے کہاکہ طاریق احمد پنڈت کو جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ ادھر گرفتاریوں کے حوالے سے چھپی خبر کی وضاحت کرتے ہوئے ایس ایس پی پلوامہ نے کہاکہ صرف 12لڑکوں کو کونسلنگ کیلئے پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا اور اس ضمن میں والدین کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی پلوامہ کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ میں نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کیلئے پولیس کی جانب سے کوششیں جاری ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پولیس نے کسی بھی نوجوان کو گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں۔ ایس ایس پی پلوامہ رائیس احمد نے کہا کہ پولیس نے پلوامہ میں کسی کو سنگبازی کے سلسلے میں گرفتار نہیں کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 30کے قریب نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی افواہوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے 12کے قریب لڑکوں کو کونسلنگ کیلئے پولیس اسٹیشن طلب کیا ہے جبکہ اس ضمن میں والدین کو بھی آگاہ کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مذکورہ
نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کئے گئے ہیں ۔ ایس ایس پی کے مطابق ضلع پلوامہ میں نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کیلئے پولیس کی جانب سے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پلوامہ میں پولیس خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اورمیں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران کسی کو گرفتار نہیں کیا اور اس ضمن میں پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

تاجروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش بیشتر سیلاب متاثرین تاجر ابھی تک امداد سے محروم
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:18

سرینگر وادی کے تاجروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پرجمع کرنے کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس کے ایک اہم رکن مشتاق احمد ساغر نے کہا کہ تاجروں کی اس نمائندہ انجمن کیلئے عنقریب انتخابات عمل میں لائے جائینگے جو صاف ستھرے اور منصفانہ ہونگے اور جس کے لئے سرکردہ شخصیتوں کو بطور مبصر تعینات کیاجائیگا، انہوں نے کہا کہ تاجروں کی آزاد کو موثر بنانے کیلئے متحدہ پلیٹ فارم کا قیام لازمی ہے ، انہوں نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ مہاراج بازار میں سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جارہاہے ، انہوں نے نصف سے زیادہ تاجر ابھی تک ریلیف سے محروم ہیں ، انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام فوری طور اس سلسلے میں اقدامات اٹھائیں اور جن تاجروں کو ابھی تک محروم رکھاگیا انہیں فوری طور امداد فراہم کی جائے ۔

امکانی زلزلوں سے ہونے والے نقصانات ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مستحکم کیا جائے :سول سوسائیٹی
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:18

سرینگر جے کے این ایس سیول سوسائٹی نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈزاسٹر مینجمنٹ اور ایس ڈی آرایف کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھائی جائیں،فورم کے مطابق آفات سماوی سے نمٹنے کیلئے ایس ڈی آر ایف ٹیموں کے پاس جدید سامان میسر نہیں حالانکہ کروڑوں روپیہ مختص رکھنے کے باوجود بھی راشی آفیسران بہتی گنگا میں ہاتھ ڈبو کر اپنے لئے شکم سیری کا سامان پیدا کر رہے ہیں ۔سیول سوسائٹی فورم نے کہا ہے کہ ریاست خاص کروادی کشمیر زلزلوں اور سیلاب کیلئے انتہائی غیر مستحکم ہے تاہم اس کے باوجود بھی اس حوالے سے مرکزی اور ریاستی حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے۔ فورم کے مطابق سال 2005میں تباہ
کن زلزلہ آیا اس دوران سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سال 2014میں تباہ کن سیلاب کے دوران لاکھوں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ، این ڈی آر ایف ٹیموں کو مضبوط بنانے اور انہیں جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت تھی تاہم حکومتوں نے کھبی بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی جو حیران کن ہے۔ سیول سوسائٹی فورم کشمیر کے مطابق آفات سماوی کے دوران خطرات سے نمٹنے کیلئے ریسکیو ٹیموں کے پاس جدید آلات ہونے چاہیں تاہم بدقسمتی سے کہنا پڑرہا ہے کہ رقومات ہونے کے باوجود بھی انہیں خرچ نہیں کیا گیا۔ فورم نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاست کو پوری طرح سے اس معاملے پر نظر انداز کردیا ہے حالانکہ سائنسدانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ریاست میں بھیانک زلزلہ آنے والا ہے تاہم اس کے باوجود بھی این ڈی آر ایف ٹیموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے باعث آفات سماوی کے دوران بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ حکومت کے پاس سنہری موقع ہے کہ ایس ڈی آر ایف ٹیم کو جدید سازو سامان سے لیس کیا جانا چائے تاکہ آفات سماوی کے دوران انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نوزایدہ بچے کی ہسپتال میں موت لواحقین کا احتجاج ، ڈپٹی کمشنر نے تحقیقات کا حکم دیا
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:17

سرینگر کے این این ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت شعاری اور معقول طبی امداد نہ ملنے کے باعث & ایس ڈی ایچ چرارشریف بڈگام میں نوزائد بچہ آنکھیں کھولنے سے قبل ہی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے موت کی آغوش میں سوگیا جس کے خلاف مقامی لوگوں نے سب ضلع ہسپتال کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام میر الطاف حسین نے چارنفری انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ جمعہ کے روز دردزہ میں مبتلائ خاتون افروزہ بانو زجہ ریاض احمد ساکنہ وازہ باغ چرار شریف شام 4بجے ہسپتال میں زیر ٹکٹ نمبر 1111زیر رجسٹریشن نمبر16416CHR-16J-ANCداخل کئی گئی ہے۔معلوم ہواہے اس وقت ہسپتال میں کچھ سرجن سپیشلسٹ موجود تھے جبکہ شام کے بعد وہ سرجن ہسپتال سے چلے گئے جس دوران میں ایک لیڈی ڈاکٹر موجود تھی لیکن وہ سرجن نہیں تھی۔مذکورہ خاتون کے شوہر ریاض نے الزام لگایا کہ اگر یہ میری بیوی کو ہسپتال سے سرینگر ریفر کرتی توبہتر ہوتا مگر انہوںنے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سب ضلع اسپتال میں تعینات ڈاکٹروںنے انہیں یہ یقین دہانی کرائی کہ زچہ بچہ کی حالت ٹھیک ہے اور مذکورہ خاتون بہت جلد بچے کو جنم دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سب ضلع اسپتال چرارشریف میںسنیچر کی صبح7بجے میری اہلیہ کی نارمل ڈیلوری ہوئی
 ڈاکٹروںنے صبح 9بجے بچے کی حالت کو متغیر قرار دیتے ہوئے بچے کو جی بی پنتھ ہسپتال سرینگر منتقل کرنے کی ہدایت دی۔انہوںنے کہا کہ سنیچر کی ٹھیک10بجے کی صبح کو ہی مذکورہ بچے کو علاج و معالجہ کیلئے جی پی پنتھ سپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروںنے بچہ کو مردہ قرار دیاگیا۔ ہسپتال میں موجود ایک ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ سب ضلع میں کوئی بھی سہولیات میسر نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ یہاں سی ٹی سکین، الڑاسونوگرافی مشین موجود نہیں ہے جبکہ ہسپتال میں بلڈبینک بھی موجود نہیں ہے۔نمائندے شاہین امین کے مطابق جی پی پنتھ ہسپتال سے واپسی کے بعداس واقعے کے خلاف سنیچر کی صبح مذکورہ خاتون کے لواحقین اور دیگر لوگوں نے سب ضلع ہسپتال چرار شریف ہسپتال کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں کی غفلت شعاری اور معقول طبی امداد نہ ملنے کے باعث زائد بچہ آنکھیں کھولنے سے قبل ہی ہمیشہ ہمیشہ موت کی آغوش میں سوگیا ہے۔مظاہرین مطالبہ کررہے تھے کہ اس میں ملوث ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔نمائندے کے ٹھیک صبح دس بجے سے چرار شریف ہسپتال کے سامنے5 گھنٹوں تک احتجاج جاری تھا جس کے ایس ایچ او چرارشریف محمد وسیم مظاہرین کے پاس پہنچ گئے اور ا نہیں یقین دہانی دی تاہم وہ منتشر نہیں ہوئے۔معلوم ہوا ہے جس کے بعد ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام سے رابطہ کرنے کے بعد ہی مظاہرین پُرامن طور منتشر ہوئے۔اس حوالے سے کے این این نے جب چیف میڈیکل آفیسر بڈگام جی ایم ڈار کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔اس معاملے کی نسبت سے ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام میر الطاف حسین نے بتایا کہ اس حوالے سے چار نفری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جواس حوالے سے جلد ہی جلد تحقیقاتی رپورٹ جاری کیا جائے گا۔تحقیقاتی کمیٹی میں ڈاکٹر عبدالرحمان، ڈی ایچ او بڈگام ڈاکٹر ندیم نذیراور ڈاکٹر مدثرپر شامل ہوگی۔میر الطاف حسین نے مزید بتایاہے کہ غفلت شعاری کے مرتکب ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

کئی برسوں کے بعد وادی میں سیاحوں کی ریکارڈ توڑ آمد مغل باغات ، سیاحتی مقامات اور جھیل ڈل میں خاصی چہل پہل اور رونق
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:17

سرینگر سٹاف رپورٹر کئی برسوں کے بعد اس سال بھاری تعداد میں سیاح یہاں آئے ہیں جن میں زیادہ تعداد ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے سیاحوں کی ہے ۔بلیوارڈ اور اس کے گردونواح میں سیاحوں کی خاصی چہل پہل دیکھنے میں آرہی ہے ۔جھیل ڈل میںبھی سیاحوں کی وجہ سے بہارآئی ہوئی ہے اورسیاح کشتیوں میں سوار ہوکر ڈل کی سیر سے لطف اندوز ہورہے ہیں ،ہائوس بوٹ اورہوٹلوں میں بھی تل دھرنے کو جگہ نہیں ،مغل باغات میں بھی سیاحوں کی وجہ سے دن بھر بھاری چہل پہل رہتی ہے اس کے علاوہ سیاحتی مقامات پہلگام ، سونہ مرگ ، گلمرگ وغیرہ میں ہوٹل اور گیسٹ ہائوس سیاحوں سے بھرے پڑے ہیں ۔کہاجارہا ہے کہ کئی برسوں کے بعد اتنی زیادہ تعداد میں سیاحوں کی آمد سے سیاحتی صنعت سے وابستہ لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ہیں کیونکہ سیاح نہ صرف خرید وفروخت کرتے ہیں جبکہ ٹیکسی اورآٹو والے بھی سیاحوں کی وجہ سے روزگار کماتے ہیں ۔عام لوگ اس صورت حال پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ سیاحتی سیزن کوکامیاب بنانے کیلئے امن ضروری ہے۔

غیر قانونی کلینکوں اور تشخیصی لیبارٹریوں کو بند کیاجارہاہے 15ہسپتالوں کو سی ٹی سکین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:16

سرینگروزیر برائے صحت و طبی تعلیم بالی بھگت نے کہا کہ حکومت عنقریب ریاست میں غیر قانونی کلینکوں اور تشخیصی لیبارٹریوں کو بند کرے گی ۔ وزیر قانون ساز کونسل میں اشوک کھجوریہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ضلع ہسپتالوں کو پہلے ہی جدید حیات بخش آلات سے لیس کیا جا رہا ہے اور حکومت ریاست میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کیلئے متعدد قدم اٹھا رہی ہے ۔ بالی بھگت نے ایوان کو مطلع کیا کہ قومی صحت مشن کے تحت حکومت ہند نے تشخیصی سہولیات کے قیام کیلئے سرکاری نجی شراکت داری طریقہ کار اختیار کرنے کیلئے تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 22 ہسپتالوں کو ضلع ہسپتالوں کا درجہ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں میں 9 اور کشمیر میں 6 ہسپتالوں کو سی ٹی سکین سہولیت فراہم کی گئی ہے ۔ اجات شترو ، ظفر منہاس ، جاوید مرچھل ، سریندر امبار دار ، قیصر جمشید لون ، نریش کمار گپتا نے ضمنی سوالات اٹھائے ۔

سرائے بالا جھڑپ ، سیلاب متاثرین اور مائیگرنٹ پنڈتوں کے معاملے پر اسمبلی میں شوروغل نیشنل کانفرنس اور کانگریس ممبروں کے علاوہ انجینئر رشید ، تارگامی اور حکم یاسین بھی واک آوٹ کرگئے
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:16

سرینگر کے ایم این حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اورکانگریس کے ممبران نے سنیچر کو دوسرے روز بھی مختلف معاملات پرقانون ساز اسمبلی میں شوروغل بپا کرکے ایوان کی کارروائی میں رکائوٹ ڈالی اور بعد میں احتجاج کے بطور واک آئوٹ بھی کیا۔ ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید ، ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی اور ایم ایل اے خانصاحب حکیم محمد یاسین بھی مائیگرنٹوں کی واپسی کے معاملے پر سرکار کے جواب سے مطمئن نہ ہوکر واک آئوٹ کرگئے۔ سنیچر کو جونہی اسمبلی کے اسپیکر ایوان میں داخل ہوئے تو نیشنل کانفرنس ممبران نے سرائے بالا جھڑپ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ عمر عبداللہ کو چھوڑ کر پارٹی کے کم و بیش تمام ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ویل کے باہر جمع ہوکر شور شرابہ کیا۔ اسی دوران کانگریس ممبران سیلاب زدگان کی بازآبادکاری کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور آناً فاناً ویل میں داخل ہوئے۔نیشنل کانفرنس کے الطاف کلو اور شیخ اشفاق جبار بھی ویل میں کود گئے اور نعرے بازی کی۔اسپیکر کویندر گپتا نے احتجاجی ممبران پر واضح کیا کہ وقفہ سوالات ختم ہونے سے قبل کسی اور مسئلے پر بات کرنے کی اجازت
 نہیں دی جائے گی۔حزب اختلاف کی دونوں پارٹیوں کے ارکان معمول کی کارروائی التوائ میں ڈال کر ان کی طرف سے اٹھائے جارہے معاملات پر بحث کرانے پر بضد رہے لیکن اسپیکر نے ان کی درخواست مسترد کردی۔اس موقعے پر ایوان قریب دس منٹ تک زبردست شورشرابہ دیکھنے کو ملا تاہم اسپیکر کے کہنے پر وزرا ئ سوالوں کے جواب دیتے رہے۔اسی دوران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کے بطور ایوان سے واک آئوٹ کرکے چلے گئے۔ وقفہ سوالات کے دوران ہی ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے مائیگرنٹ کشمیری پنڈتوں کو فراہم کی جارہی امداد اور ان کی واپسی کے بارے میں اٹھائے جارہے اقدامات کے بارے میں ایک سوال پوچھا جس کا مال کے وزیر سید بشارت بخاری نے جواب دیا۔انہوں نے وزیر موصوف سے پوچھا کہ کیا حکومت مائیگرنٹ پنڈتوں کی واپسی کے سلسلے میں حریت لیڈر شپ کے ساتھ بات کرکے انہیں اعتماد میں لے گی؟انہوں نے نوے کی دہائی میں کنٹرول لائن کے اُس پار گئے لوگوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور وزیر سے پوچھا کہ کیا اوڑی، کرناہ ، کیرن اور دیگر سرحدی علاقوں کے ان مائیگرنٹوں کی واپسی کیلئے کوئی اقدام کیا جارہا ہے؟کیا اس پر حریت کے ساتھ بات چیت کی جائے گی؟ تاہم سید بشارت بخاری انہیں مطمئن نہیں کرسکے جس پر انجینئر شور مچاتے ہوئے ویل میں داخل ہوئے۔انہوں نے کشمیری مائیگرنٹ پنڈتوں کی واپسی کے حوالے سے ایوان میں موجود وزیر تعلیم نعیم اختر کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیا تو نعیم اختر خود کھڑے ہوکر جواب دینے لگے۔وزیر تعلیم نے کہا&&میں نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے بارے میں حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بیان دیا جب س معاملے پر2008جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی، میں نے ایسا اس لئے کہا کہ کشمیر مذہبی بھائی چارے کا گہوارہ رہا ہے ، تو میں نے یہ کہا کہ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا تعلق ہے، حکومت اور علیحدگی پسندوں کی اس پر ایک رائے ہے&&۔تاہم انجینئر رشید پھر بھی مطمئن نہیں ہوئے اور وزیر پر ریاستی مسلمانوں کے بارے میں دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے حکمران ممبران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا&&آپ آر ایس ایس نظریہ کی پاسداری کررہے ہیں&& ۔ اس دوران پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین اور سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی نے انجینئر کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں نے اسی معاملے کے تعلق سے کئی سوالات پوچھے۔سرکار کی طرف سے اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر انجینئر رشید کے ساتھ تاریگامی اور حکیم یاسین نے بھی ایوان سے واک آئوٹ کیا۔

فوڈ سیکورٹی بل کے معاملے پر پی ڈی پی کے بعض ممبران آپس میں اُلجھ پڑے ایوان میں وزیر امورصارفین کی حالت قابل رحم بنادی گئی
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:15

سرینگر کے ایم این حکمران جماعت پی ڈی پی کو اسمبلی کے ایوان میں اُس وقت سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب پارٹی کے اپنے ہی ممبران آپس میں اُلجھ پڑے اور ایک دوسرے کو کھری کھری سنائی۔پارٹی سے وابستہ موجودہ وزیر چودھری ذوالفقار علی نے سابق وزیر محمد اشرف میر کو اپنی وزارت جلد ہی کھونے کا طعنہ دیا جس پر میر برہم ہو گئے ۔یاور میراور ایک بھاجپا ممبربھی اشرف میر کی حمایت میں کھڑے ہوئے ،جاوید مصطفےٰ میر اور سید الطاف بخاری کو اپنے ہی وزیر پر غصہ آیا ، تاہم دیہی ترقی کے وزیر ایڈوکیٹ عبدالحق خان نے مداخلت کرکے صورتحال پر قابو پالیا۔ اسمبلی میں نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے معاملے پر اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر نے اپنے ایک سوال کے ساتھ کئی اہم معاملات اُبھارتے ہوئے امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے وزیر چودھری ذوالفقار علی کی
حالت غیر کردی تھی۔جب چودھری ذوالفقار علی جواب دے رہے تھے توایوان میں حکمران ممبران کے درمیان نوک جھونک کے بعد دلچسپ اور قدرے تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہوا۔پی ڈی پی سے ہی وابستہ ایم ایل اے سونہ وار اور سابق وزیر محمد اشرف میر نے چودھری ذوالفقار کو ٹوکا،وہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کے حلقہ انتخاب میں کس طرح کچھ رشن کارڈوں کو غیر قانونی طور منسوخ کیا گیا ہے ؟انہوں نے تکرار کے انداز میں وزیر سے کہا&& غریب اور انتہائی غریب کے زمرے کیا ہیں؟ میرے حلقے میں امیروں کو اناج مل رہا ہے اور غریب بھوکے مررہے ہیں،مجھے اس کا فوری جواب چاہئے&&۔اسی دوران ایوان کے دوسرے کونے پر بیٹھے رفیع آبادکے نوجوان ایم ایل اے یاور دلاور میر اپنے سینئر ساتھی محمد اشرف میر اور ساگر کی حمایت میں کھڑے ہوئے اور وزیر امور صارفین سے سوال کیا&&اگر آپ نے ان لوگوں کو فہرست سے نکال باہر کردیا ہے جن کے پاس80کنال زمین ہے تو ان لوگوں کا کیا ؟جن کے پاس 75کنال زمین ہے؟&&اس موقعے پر حکمران ممبران کی معمولی نوک جھونک اُس وقت طعنہ بازی میں تبدیل ہوگئی جب چودھری ذوالفقار علی نے محمد اشرف میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا&&بولنے دو، ان کی تازہ تازہ منسٹری گئی ہے نا&&!اس پر نیشنل کانفرنس ممبران نے میز بجاکر مخالف ممبران کی تلخ کلامی کا مزہ لیا۔پی ڈی پی کے سید الطاف بخاری اور جاوید مصطفےٰ میر کو بظاہر اپنی پارٹی کے وزیر پر غصہ آرہا تھا اور وہ کھڑے ہونے ہی والے تھے کہ محمد اشرف میر نے چودھری ذوالفقار علی کو زوردار انداز میں جواب دیتے ہوئے کچھ کہا جو شور کی وجہ سے سنائی نہیں دیا۔اس پر کچھ دیر ایوان میں خاموشی چھاگئی اورکچھ نشستیں دور بیٹھے یاور دلاور میرنے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا&&اگر یہ ناقص قانون زمینی سطح پر لاگو کیا گیا تو ہر ایک اشرف میر جیسا ہوگا، سب کی منسٹری چلی جائے گی&&۔جب چودھری ذوالفقار علی اور محمد اشرف میر آپس میں اُلجھ رہے تھے تو پی ڈی پی کے ہی عبدالمجید پڈر اپنے بائیں جانب بیٹھے محمد اشرف میر کی حمایت میں کھڑے ہوکر شور مچارہے تھے۔ مجبور ہوکر دیہی ترقی کے وزیر ایڈوکیٹ عبدالحق خان اپنی نشست سے کھڑے ہوئے، اپنے ساتھیوں کو سمجھا بجھا کر خاموش کرایا اور بدتر ہورہی صورتحال پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی۔قابل ذکر ہے کہ ایکٹ پر بحث کے دوران نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی اور بھاجپا ممبران نے بھی راشن کی ناقص تقسیم کاری کو لیکر متعلقہ وزیر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور ایکٹ پر طرح طرح کے تحفظات کا اظہار کیا۔بھاجپا کے رکن اسمبلی رام بن نے بھی یاور دلاور میر اور محمد اشرف میر کی حمایت کی۔ان کا کہنا تھا&&یہ دونوں سچ بول رہے ہیں، رام بن آئیے اور دیکھئے کہ نفسا نے کس طرح کے مصائب کو جنم دیا ہے ؟&&قابل ذکر ہے کہ اس پوری صورتحال کے دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ایوان میں موجود نہیں تھیں۔ نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے اطلاق کو لیکرقانون ساز اسمبلی میں سنیچر کو حزب اختلاف اور حزب اقتدارکے ممبران نے یک زباں ہوکر سرکار کی خوب خبر لی اور قانون کے اطلاق پر طرح طرح کے تحفظات کا اظہار کیا۔اسپیکر نے اعلان کیا کہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس معاملے پر باضابطہ بحث کرائی جائے گی۔ جب امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے وزیر چودھری ذالفقار علی ،نیشنل کانفرنس لیڈرا اورایم ایل اے خانیار علی محمد ساگر کی جانب سے پوچھلے گے سوال کا جواب دے رہے تھے ،تو اس دوران نیشنل کانفرنس کے ساتھ ساتھ حزب اقتدارپی ڈی پی ممبران اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وادی بھر میں اس وقت لوگ راشن سے محروم ہیں ،لیکن سرکار صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہے ۔نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے متعلق پوچھلے گے سوال کے جواب میںوزیر نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت 74.13لاکھ لوگوں کو 3سے2روپے فی کلوکے حساب سے راشن اور گندم فراہم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت فی صارف کو پانچ کلو راشن فراہم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ نفسا کے تحت ساڑھے 6لاکھ کنبوں کو زیادہ آمدنی کے زمرے میں رکھا گیا ہے جنہیں نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت راشن فراہم نہیں کیا جائے گا ۔وزیر موصوف نے کہا کہ 74لاکھ 13ہزار صارفین چاہئے وہ ایس ٹی ہو ں یا غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے ہوں، اس ایکٹ سے استفادہ حاصل کریں گے ۔جواب میں کشمیری پنڈتوں کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو پرانی سکیل کے تحت ہی راشن فراہم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ریلیف و بازآبادکاری محکمے کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ۔وزیر کے سوال کا جواب سننے کے بعد علی محمد ساگر اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ وزیر ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں کیونکہ گورنر انتظامیہ کے دوران مذکورہ وزیر نے یہ بیان دیا تھا کہ اس ایکٹ میں بہت ساری خامیاں رہ گئی ہیں جن کو دور نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم آج یہی وزیر ایوان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ فوڈ سیکورٹی ا یکٹ عوام کیلئے ٹھیک ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر کے مطابق ساڑھے 6 لاکھ لوگ جن کی آمدنی زیا دہ ہے، انہیں اس دائرے میں نہیں رکھا گیا ہے،&& تاہم میں ایوان کو کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ ساڑھے چھ لاکھ کنبے نہیں ہیں بلکہ 27 لاکھ لوگ ہیں، جو اس سے محروم ہو ئے ہیں&&۔

نیشنل کانفرنس نے ہی بجلی پروجیکٹ مرکز کو سونپ دئے، کرسی میری کمزوری نہیں جس دن یہ میرے لئے کمزوری بن جائے گی میں اُسی دن اُسے چھوڑدونگی، پی ڈی پی 1987دہرانا نہیں چاہتی ، جب این سی اور کانگریس نے آپس میں ہاتھ ملاکر متحدہ محاز کو سیاسی صفوںمیں جگہ نہیں دی سیاحتی سیزن کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ضروری اقدام کئے جائیں گے سینک کالونیوں کے لئے اراضی کی نشاندہی نہیں کی گئی
Source:  Aftab
Saturday, 28 May 2016 22:15

سرینگرسٹاف رپورٹر کے ایم این کے این ایس آرمڈ فورسز سپیشل پائورس ایکٹ اور بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کیلئے مہلت مانگتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے واضح کیا ہے کہ اگر مخلوط سرکار کے ایجنڈا آف الائنس پر عمل نہیں کیا گیا تو وہ وزارت اعلیٰ کی کرسی کو لات مارنے میں دیر نہیں کریں گی۔محبوبہ مفتی نے بھاجپا کے ساتھ ملکر حکومت تشکیل دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کرنے سے جموں میں بھی کشمیر جیسے حالات پیدا ہونے کا احتمال تھا۔انہوں نے کہا ہےNEET دفعہ370کیلئے کوئی خطرہ نہیں، مائیگرنٹ کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے گا اورسینک کالونیوں کیلئے ابھی تک اراضی کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے ۔محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ مخلوط سرکار کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی پی 1987دوہرانا نہیں چاہتی جب نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ہاتھ ملا کر متحدہ محاذ کو سیاسی صفوں میں جگہ نہیں دی ۔ انہوں نے کہا کہ مابعد کشمیریوں نے بندوق اٹھائے اور صلاح الدین ویاسین ملک سامنے آئیں تاہم اب کی بار ایسا کیا ہوتا تو پی ڈی پی ہیرو تو بن جاتی مگر جموں میں بھاجپا کو منڈیٹ دینے والے نہ جانے کیا قدم اٹھاتے۔ بجلی پروجیکٹوں کی واپسی پر نیشنل کانفرنس کے واہ ویلا کو اشک سوزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی جماعت نے انہیں مرکز کی جھولی میں ڈال دیا ۔ پنڈت اور سینک کالونیوں پر انہوں نے کہا کہ فوجی کالونیوں کے لئے اراضی کی نشاندہی نہیں کی گئی اور یہ پشتنی باشندوں کیلئے ہی تھی جبکہ پنڈتوں کو معقول وقت پرعزت کے ساتھ بسایا جائیگا۔انہوں نے حریت کانفرنس لیڈران کی نظر بندی کا بھی اشاراً اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سیاحتی سیزن کو برقرا ر رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے ۔ وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر کے خطبے کی شکریہ تحریک کے آخر میں کئی ایک معاملات پرخاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ انہیں بے وجہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی جمعہ جمعہ 8ہی دن سرکار میں ہوگئے ہیں اور ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کی وہ اس عرصے میں تمام کریں گی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کرسی انکے لئے مجبوری تھی اور وہ اپنے والد کے اس ویژن کو پورا کرنا چاہتی تھی جو بستر مرگ پر بھی انکے لئے بے قراری کا سبب بن گیا تھا۔ تاہم محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب انکا کرسی پربیٹھنا مشکل ہو جائے گا تو وہ کرسی کو کمزوری نہیں بننے دیں گی اور اسکو ہی چھوڑ دیں گی۔ وزیر اعلی محبو بہ مفتی نے پی ڈی پی، بی جے پی اتحاد کو ریاست میں وحدت کی علامت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابات2014کے نتائج سامنے آ نے کے بعد دوخطوں کی الگ الگ عوامی منڈ یٹ کو ٹھکرا کرریا ست کو ایک مرتبہ پھر1987 کے حا لات کا سامنا کر نا پڑ سکتا تھا ۔سینک کے قیام کی ذکر کر تے ہو ئے محبو بہ مفتی نے کہا کہ اس میں کسی بھی غیر ریا ستی کو بسیا یا نہیں جا ئے گا ۔ محبوبہ مفتی کا دراصل سینک کا لونی کے قیام کی تجویز میر قاسم کے دور میں سامنے لائی گئی تھی اور شیخ محمد عبدا للہ نے اس منصوبے پر دستخط کئے اس دوران وزیر اعلی نے اعلان کیا کہ سر ینگر اور جموں کو سمارٹ سٹی کے دائر ے میں لا یا گیا ۔ محبوبہ نے کہا کہ اگر چہ بقول عمرعبداللہ از آباد کاری پالیسی کے تحت اب تک 350 ٹینٹ لوٹ آئے ہیں تاہم اب تک جو کنبے لوٹ آئے ان کے اہل و عیال باز آبادکاری کے فقدان کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہو ئے عمر عبداللہ سے
 مخا طب ہو تے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنا میر ے لئے بہت مشکل ہے مجھ میں اعتماد کی کمی محسوس ہو رہی ہے لیکن میں مجبور ہو ں کیونکہ مجھے اپنے والد مفتی محمد سید کا نظریہ پوار کر کے اس کر سی کے وقار کو بلند کر نا ہے۔ انہوںنے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی ملی جلی سرکار تشکیل پانے کے بعد ریاست میں کسی بھی طرح کی رسہ کشی یا محاذآرائی کا ماحول پیدا نہیںہوا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کی ملی جلی سرکار بننے کے بعد ریاست کے تینوں خطوںجموں ، کشمیر اور لداخ کے درمیان علاقائی اور عوامی سطح پر دوریاں کم ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو سرکار میں شامل کرنے سے بالخصوص جموں اور کشمیر کے درمیان کسی بھی طرح کی خلیج کو کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ تینوں خطوں کے عوام امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کو پسند کرتے ہیں اور موجودہ مخلوط سرکار کی اولین ترجیح بھی یہی ہے کہ ریاست کے تینوں خطوں میں عوامی اتحاد کو بحال کیا جائے۔ انہوںنے کہانے اسمبلی انتخابات2014کے نتائج کو جموں اور کشمیر کے دونوں خطوں کے عوام کو آپس میں ملنے کا ایک سنہری موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں میں لوگوں نے بی جے پی اور کشمیر میں پی ڈی پی کے حق میں ووٹ ڈالااور یہ ہمارے پاس ایک موقعہ تھا کہ لوگوں کو جوڑا جائے۔ این آ ئی ٹی میں پیش آ ئے واقعہ پر کا نگر یس کے جنرل سکریٹر ی راہول گا ندھی پر سیکو لرزم کے نام پر سیا ست کھیلنے کا لزام عا ئد کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر ی طلبہ کو ہمیشہ بیرون ریا ست میں تشدد کا نشا نہ بنا یا گیا اس پر راہول گا ند ھی نے کبھی بھی زبان نہیں کھو لیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر ہم جموں اور کشمیر کے لوگوں کو ایکساتھ نہیں لاسکتے تو پھر کیسے کشمیر ی عوام کو ہندوستان کے ساتھ جوڑیں گے ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے لوگوں کے منڈ یٹ کو ٹھکرا یا ہو تا تو یہاں ایک مرتبہ پھر1987 کے حا لات پیدا ہو نے کا خطر ہ لاحق تھاجس دوران انتخابات میں وسیع پیمانہ پر ہونے والی ہیرا پھیری سے کشمیری نوجوانوں کے دل میں انتخابی عمل کے تئیں بد دلی پیدا ہوئی اور وہ اپنا حق حاصل کرنے کیلئے بندوق اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں ے الزام لگا یا کہ اس وقت نیشنل کانفرنس نے صرف کشمیر میں انتخا بی دھاند لیا ں کر کے سید صلا ح الدین محمد یا سین ملک، اور سید علی گیلانی کو بغا وت پر لاکھڑا کر دیا اوریہ موقعہ چھوڑ کر ریا ست کے کرمن امن میں آ گ لگ سکتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سیلف رول کے ایجنڈے پر قائم ہیں جس کو سابق وزیر اعظم واجپائی ، امریکہ اور پاکستان کے ساتھ بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ کشمیر کی گھتی کا حل سیلف رول میں ہی ہے۔ سابق مخلوط حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ان اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جو مفتی محمد سعید نے 2005تک اپنے دور حکومت میں اٹھائے تھے۔بلکہ ان اقدامات پر آگے بڑھنے کے بجائے ان کو مزید کمزور کردیا۔ محبوبہ نے کہا کہ اگر چہ بقول عمرعبداللہ از آباد کاری پالیسی کے تحت اب تک 350 جنگجو لوٹ آئے ہیں تاہم اس پالیسی کو اتنا ابہام میں رکھا گیا کہ ابھی تک پتہ بھی نہیں کہ ان جنگجووں کو کس راستہ سے واپس آنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب جو لوٹ آئے ان کے اہل و عیال باز آبادکاری کے فقدان کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی تعریف کر تے ہو ئے انہوں نے کہا کہ جب مہاراج نے  1947 ریا ست جموں وکشمیر کا بھارت کے ساتھ الحا ق کیا تب مرحوم شیخ عبداللہ ہی ریا ست کے قد آ ور لیڈر تھے لوگوں نے اس الحا ق کو ماننے سے انکار کیا اور جب شیخ محمد عبدا للہ نے اسکی تا ئید کی جموں وکشمیر کی قوم ان کے پیچھے کھڑ ی ہوگئی ۔ انہوںنے کہا کہ مفتی محمد سعید کا ماننا تھا کہ شیخ محمد عبداللہ کاوہ فیصلہ صیح تھا ۔ انہوں نے کہا&&اگر اْس وقت ہندوستان کے سیکولراز م کو کسی نے تحفظ فراہم کیاتو وہ جموں وکشمیر کے عوام تھے&&۔شیخ محمد عبداللہ کی وجہ سے یاست کے سیاسی ماحول میں تبدیلی آئی۔ان کا کہنا تھا&&شیخ عبداللہ کی واپسی سے ہمیں یعنی ہندوستان حامی سیاستدانوں اور لوگوں یہاں کچھ بنیاد ملی اور ایک عوامی ساکھ بن گئی جب شیخ صاحب واپس آئے تو انہوں نے بہتر حکمرانی اور شفافیت کا نعرہ دیا ۔ سینک کا لونی کی زکر کر تے ہو ئے محبو بہ مفتی نے کہا کہ اس میں کسی بھی غیر ریا ستی کو بسیا یا نہیں جا ئے گا ۔ محبوبہ مفتی کا دراصل سینک کا لونی کے قیام کی تجویز میر قاسم کے دور میں سامنے لائی گئی تھی اور شیخ محمد عبدا للہ نے اس منصوبے پر دستخط کئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ گو رنر رج کے دوران اس کے قیام کا ایک آ رڈر تیا ر کر وایا گیا اور ہما ری حکومت بننے کے بعد اس کے لئے زمین کی نشا ند ہی کروانے کے لئے کہا گیا تاہم وزیر اعلی نے صاف کر دیا کہ اس کے لئے کسی جگہ زمین کی نشا ندہی کی گئی ہے۔ انہوں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ایوان زیریں میں این سی پارٹی لیجسلیچر لیڈر عمر عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ ﴿عمر﴾افسپا منسوخی کی بات 6سال تک دوران اقتدار کرتے رہے لیکن کیا وہ اس و مقصد میں کا میاب ہو گئے انہوںنے کہا کہ مجھے ﴿محبوبہ﴾ کوکچھ وقت دیجیے اسکی شروعا ت بھی ہو گی۔ انہوںنے کہانیشنل کانفرنس نے ہمیشہ ریاست اور یہاں کے عوام کے مفادات کا سودا کیا بجلی پر وجیکٹوں کو مر کزی کے جھو لی میں ڈالا دیا گیا۔ محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ صبر کریں اور دیکھے آ گے کیا ہو تا ہے۔ہند وپاک تعلقات کی زکر کر تے ہو ئے محبوبہ مفتی نے کہا&&کشمیر میں سازگار ماحول کے لئے حکومت ہند کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئے، پاکستان کے ساتھ تعلقات مسئلہ ہے، ہندوستان ایک عظیم ملک بن جائے گا اور یہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے داخلی اور خارجہ سطح پر مذاکراتی عمل شروع کیاتھا۔ واجپائی نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کئے اور پاکستان کے ساتھ مفاہمتی عمل شروع کیا۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے پاس ہندوستان کے لوگوں کا منڈیٹ ہے، ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ وا جپا ئی کے مشن کو آگے لے جائیں۔ انہوںنے کہا کہ یہ مفتی محمد سید کی کو ششوں کا نتیجہ تھا کہ نریندر مودی پا کستا ن کا اچا نک دو رہ کرنے پر مجبو ر ہو گئے لیکن بد قسمتی سے اسی وقت پٹھا ن کو ٹ واقعہ پیش آ یا۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کشمیری پنڈتوں کی باعزت گھر واپسی کو یقینی بنانے کے اقدام اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ جب تک تمام اضلاع میںحالات با لکل ٹھیک نہیں ہوں گے اور جب ان میں احساس تحفظ پیدا ہو تب ہی ان کو آ بائی علاقوں کو روانہ کر دیا جا یا گا۔ وزیر اعلی نے سوال کیا کہ شہر میں کتنے ایسے سیا سی کا رکن ہو ٹلوں میں ٹھہر ے جو حالات کی وجہ سے اپنے گھروں سے بھا گ گئے ہیں کہ ان حا لات میں ان کو گھر بھیج دیا جا سکتا ہے۔

<< < Prev 1 2 3 Next > >>